راشد حمزہ

ہمارے گاؤں میں بجلی 1982 میں آئی تھی اور ہمارے گھر میں ٹیلی ویژن بجلی آنے سے ایک سال پہلے لایا گیا تھا، گھر والے ٹیلی ویژن کو جانتے نہ تھے اُن کو صرف اتنا اندازہ تھا کہ یہ زندہ تصویر پکڑنے والی کوئی چیز ہے اس لئے وہ ٹیلی ویژن بارے متجسس تو رہتے لیکن اسکی اہمیت لکڑی کے اُس صندوق سے زیادہ نہ تھی جس میں روزمرہ کی ضرورت کے آہنی آلات رکھے جاتے ہیں، گھر میں صرف میرے والد ایسے انسان تھے جو ٹیلی ویژن سے واقف تھے اور اس کی اہمیت سے آگاہ بھی تھے، شاید ٹیلی ویژن سے اس کی شناسائی اُن دنوں ہوئی تھی جب وہ پڑھائی کے سلسلے میں شہر مقیم رہے ـ

اُن دنوں اُس کی زندگی میں ٹیلی ویژن سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں تھی وہ سخت بے تاب تھے کہ بجلی آئے تو گاؤں والوں کو بھی پتہ چل جائے کہ میں کیا چیز لایا ہوں، گاؤں میں وہ واحد ٹیلی ویژن تھا جو ہمارے گھر میں تھا، ایک سال کے کڑی انتظار کے بعد جب بجلی آئی تو ہم نے ٹیلی ویژن کی سکرین پر متحرک تصویروں کا تجربہ بھی کردیا ٹیلی ویژن پر متحرک تصویر دیکھنے کا پہلا تجربہ مسحور کن اور ناقابلِ یقین تھا اس لئے جس نے بھی یہ تجربہ کیا اُس نے گاؤں کے ہر آدمی کے سامنے اسکا تذکرہ ضرور کیا اس طرح گاؤں میں ٹیلی ویژن سے متعلق خبریں اور قصے وبا کی طرح پھیل گئے ـ

اُن ہی دنوں گھر میں ہم نے ٹیلی ویژن دیکھنے کے لئے وقت کو نئے سرے سے منظم کیا، عشائیہ کے بعد سب گھر والے بیٹھ جاتے اور ٹیلی ویژن دیکھتے، چوں کہ ٹیلی ویژن ایک نئی اور حیران کن شئے تھا اس لئے گھر میں آڑوس پڑوس کے بچے اور خواتین اُن نمازیوں سے زیادہ آنے لگیں جو ہماری جامع مسجد میں پُرجوش پیش امام کی اقتداء میں نماز پڑھتے تھے، ٹیلی ویژن نے مدرسے میں بچوں کی حاضری پر بھی گہرا اثر چھوڑ دیا، بچوں کی حاضریوں میں تسلسل نہ رہا اور مدرسے میں اس طرح کی شکایات روز کا معمول بن گیا کہ فلاں حمزہ کے گھر ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا اس لئے مدرسے نہیں آیا تھا، فلاں کو ہم نے کہہ بھی دیا تھا کہ قاری صاحب زندہ نہیں چھوڑیں گے لیکن اس نے جواب دیا جب تک زنگی ہے ٹیلی ویژن دیکھنے کا تجربہ ضرور کرنا چاہئے ـ

مزید پڑھیں:   جب تک زندگی ہے چائے نوشی کرنی چاہئے ـ

مولوی صاحب قاری صاحب اور دوسرے پارسا لوگوں کو جب صورت حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو انہوں نے ٹیلی ویژن کو فتنہ قرار دیا، تبلیغی مشن مستقل ہمارے حجرے آنے لگے تاکہ ہم ان کے ہاتھ سے ہدایت پائیں اور گاؤں سے ٹیلی ویژن نامے نئے فتنے کا خاتمہ کریں مجھے یاد ہے مولوی صاحب نے بھی ٹیلی ویژن کے فتنے کے حوالے سے اپنی تحقیقی سرگرمیاں تیز کردیں جمعے کو ٹیلی ویژن کی قباحتوں پر خطبے دئیے جانے لگے اور گھر میں ایک کتابچہ بھیجا گیا جس میں عذاب قبر کے اُن واقعات کو جمع کیا گیا تھا جو ٹیلی ویژن دیکھنے والوں پر آئے تھے ـ یوں اُن دنوں مولوی صاحب اور دیگر مذہبی حوالے سے معتبر لوگوں کی تعلیمات کے نتیجے میں ہم اتنا سمجھ پائے کہ گاؤں میں دو بڑے مراکز ہیں ایک برائی کا مرکز ہے جو ہمارا گھر ہے اور ایک ہدایت کا مرکز ہے جو وہ مقام ہے جہاں مولوی صاحب قیام کرتے ہیں ـ

اُن دنوں جب ہمارے گھر والے تسلسل سے ڈرامے دیکھتے تھے تو اُن میں ایسے ڈرامے بھی ہوتے جو ناظرین کو اپنے ساتھ پوری قوت سے وابستہ رکھتے اس کے بعض کردار تو ایسے ہوتے جب وہ ڈرامے کے دوران کسی مشکل میں پڑتے تو گھر کے بعض جذباتی خواتین مصلے پر بیٹھ جاتیں اور کردار کی مدد کے لئے خشوع سے دعا مانگتے، بعض لوگ ذکر و اذکار کے ذریعے خدا کی خصوصی توجہ طلب کرتے ـ اب جب میں وہ وقت اور وہ حالات یاد کرتا ہوں تو ہنسی آجاتی ہے اب ٹیلی ویژن ہر گھر کی بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے ہر گھر میں نہ سہی ہرحجرے میں ٹیلی ویژن ضرور رکھا جاتا ہے اب نہ کوئی اسے فتنہ قرار دیتا ہے اور نہ لوگ ایسی باتوں کو دھیان میں لاتے ہیں، اب مولوی صاحب کے بچے مدرسے سے خود فیس بک پر لائیو آتے ہیں اور کوئی اسے نہیں کہتا کہ ٹیلی ویژن تو برائی ہے اور برائی ہمیشہ برائی رہتی ہے۔
تحریر: راشد حمزہ

اپنا تبصرہ بھیجیں