Block chain technology in urdu

بلاک چین ٹیکنالوجی اور ہماری روزمرہ زندگی میں اسکی اہمیت

ابتداء میں بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال ڈیجیٹل کرنسی Bitcoin نے کیا تھا۔ جس میں ڈیجیٹل کرنسی کی ملکیت بذریعہ سافٹ ویئر کوڈ تبدیل ہو جاتی ہے اور خریدار کسی بھی چیز کی قیمت ڈیجیٹل کرنسی میں ادا کرتے ہیں۔

لیکن دنیا  کی  بلاک چین ٹیکنالوجی میں دلچسپی اس وقت پیدا ہوئی جب یہ پتہ چلا کہ Bitcoin کے پیچھے جادو بلاک چین ٹیکنالوجی ہی ھے-

فرض کرتے ہیں ہم کوئی ایسی گاڑی خریدتے ہیں جو فیکٹری اور پانچ خریداروں سے ھوتے ہوئے ہم تک پہنچی ھے۔
ہماری خواہش یقینا یہی ھوگی کہ گاڑی اپنی اسی اصلی حالت میں ھو جس حالت میں اس کو فیکٹری نے تیار کیا تھا۔

لیکن یہ پانچ خریداروں سے ہوتے ہوئے ہم تک پہنچی ھے اور اس بات کا خدشہ موجود ھے کہ اس گاڑی کے پرزوں میں کوئی رد و بدل کر دیا گیا ہو۔ یا پھر اس کی قانونی حیثیت پر کو کوئی سوال ہو۔ یا پھر آپ اسکی قیمت کے بارے میں پریشان ہوں۔
ان تمام خدشات کو دور کرنے کے لئے آپکو یقینا ان پانچ خریداروں سے ہوتے ہوئے اس فیکٹری تک جانا پڑے گا جہاں یہ گاڑی بنی تھی۔ یا پھر دوسری صورت میں ان تمام خدشات کے ساتھ رہنا پڑے گا۔
اس کی دوسری وضاحت یہ ھے کہ آپ کا کوئی خریدار آپکو بیرون ملک سے رقم بھیجنا چاہتا ھے لیکن آپ کو اور آپکے خریدار کو اس ٹرانزیکشن کے لئے کوئی ضمانت چاہئیے۔ ایسی ضمانت عام طور پر بینک فراہم کرتے ہیں۔ اور اس ضمانت کے عوض بنک آپ سے فیس وصول کرتے ہیں۔ اور یہ کام کافی وقت طلب ہوتا ھے۔
لیکن کیا ایسا ممکن ھے کہ یہ رقم بغیر کسی کی ضمانت اور تاخیر کے آپ کے پاس پہنچ جائے۔
جی ہاں ایسا ممکن ھے۔ اور یہ کام ایک پیچیدہ سافٹ ویئر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس سافٹ ویئر کو بلاک چین ٹیکنالوجی کہتے ہیں۔
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ھے اس سافٹ ویئر ٹیکنالوجی میں بلاکس جو دراصل ڈیٹا بلاکس ہوتے ہیں، اور چین جو دراصل اگلے اور پچھلے بلاکس کو بذریعہ کوڈ ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔اس تمام عمل میں جب کوئی ٹرانزیکشن ہوتی ہے تو ڈیٹا کا ایک بلاک بن جاتا ہے۔ اس بلاک کی اپنی شناخت کے ساتھ ساتھ اس میں پچھلے بلاک کی شناخت اور اپنا ڈیٹا بھی موجود ھوتا ھے۔

مزید پڑھیں:   ایکسٹرا ورجن زیتون - سپلائی چین اور بلاک چین ٹیکنالوجی

مثال کے طور گاڑی والے معاملے میں جب فیکٹری گاڑی بنائے گی تو سافٹ ویئر میں ایک بلاک تخلیق ہو جائے گا۔ اس پہلے بلاک کو جینیسس بلاک کہا جاتا ھے۔ جب کو خریدار فیکٹری سے گاڑی خریدے گا تو ایک اور ڈیٹا بلاک تخلیق ہو جائے گا جس میں پچھلے بلاک کی شناخت موجود ہوگی۔ جب تیسرا خریدار وہ گاڑی خریدے گا تو اس میں پہلے خریدار کی شناخت اور اپنا ڈیٹا موجود ہوگا۔ جب تک یہ گاڑی اگلے خریداروں کے ہاتھ آتی جائیگی نئے ڈیٹا بلاک تخلیق ھوتے جایئں گے۔ جن میں گزشتہ بلاکس کی شناخت محفوظ ہوگی۔ اگر کوئی ہیکر اس بلاک چین کو توڑنا چاہے اور اس کے ریکارڈ میں اسی طرح کا رد و بدل کرنا چاہے جس طرح گاڑی کے کاغذات میں کیا جاتا ھے تو یہ اس کے لئے تقریبا ناممکن ہوگا۔ کیونکہ جب وہ ایک بلاک کی شناخت تبدیل کرے گا تو اس بلاک سے اگلے اور پچھلے تمام بلاکس کی شناخت کو تبدیل کرنا پڑے گا کیونکہ ہر بلاک اپنے سے پہلے بلاک کی شناخت لیے چلا آ رہا ھے۔ ہم فرض کرتے ہیں کہ کوئی ایسا تیز ترین کمپیوٹر ھو جو ہزاروں بلاکس کا ڈیٹا کسی غیر قانونی مقصد کے لئے تبدیل کرسکے تو اس صورت میں کیا ہوگا؟

ایسا کرنا بھی تقریبا ناممکن ہوگا کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ڈیٹا کو کسی واحد ڈیٹا سرور پر محفوظ نہیں کرتی بلکہ یہ کمپیوٹرز کے peer to peer نیٹ ورک پر کام کرتے ہیں۔ جب کو بلاک تخلیق ہوتا ھے تو اس کا ڈیٹا ایک سے زیادہ سرورز پر محفوظ ہو جاتا ھے۔ ہیکرز کو ان تمام ڈیٹا سرورز کا ریکارڈ تبدیل کرنا ہوگا جہاں ڈیٹا بلاکس محفوظ ہونگی جو کہ تقریبا ناممکن ہے۔

مزید پڑھیں:   سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت پالیسی ۔ خیبر پختونخواہ بازی لے گیا

اسی طرح اگر آپ کا کوئی خریدار بیرون ملک سے آپکو رقم کی ادایئگی کرنا چاہتا ھے تو آپ اور آپکے خریدار کو ایک ڈیجیٹل کوڈ پر متفق ہونا پڑے گا اور آپکا خریدار بذریعہ سافٹ ویئر کوڈ آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں ادایئگی کر سکتا ھے یا پھر وہ رقم بغیر کسی بنک گارنٹی اور کاغذی کاروائی کے آپ کے بنک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جایئگی۔

بلاک چین ٹیکنالوجی ابھی ارتقائی مراحل سے گزر رہی ھے۔ ڈیجیٹل پراڈکٹس بنانے والی کمپنیاں اب اس ٹیکنالوجی کی طرف آ رہی ہیں۔ نان ڈیجیٹل پراڈکٹس بنانے والی کمپنیوں کے لئے یہ نسبتا مشکل ھے لیکن نان ڈیجیٹل پراڈکٹس فروخت کرنے والی کمپنیاں بھی اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنا چاہتی ہیں۔ جیسا کہ دنیا کی سب سے بڑی ریٹیل چین Walmart نے مخصوص علاقوں میں کسانوں کو اس وقت اس بات کا پابند بنایا کہ وہ اپنے پراڈکٹس کے ساتھ ایک ڈیجیٹل کوڈ چسپاں کریں جب انکے پھلوں میں زہریلے مادوں کا کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔

بلاک چین ٹیکنالوجی کی حدیں کسی ایک انڈسٹری تک محدود نہیں ہیں بلکہ ہر انڈسٹری اور کاروبار اپنی ضرورت کے مطابق اس سے فائدہ اٹھانا چاہتا ھے۔ یہاں تک کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اس کا استعمال چھوٹے پیمانے پر بھی کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں