جب تک زندگی ہے چائے نوشی کرنی چاہئے ـ

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ ہماری بے انتہاء خوش قسمتی ہے کہ چائے نوشی ہمارے مذہب میں حرام نہیں ہے وگرنہ اتنی تاثیر رکھنے والی مشروب حلال کیسے ہوسکتی ہے یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے، چائے پینے والے کو اپنی ایسی لت لگاتی ہے کہ پیو تو ہوش و حواس میں رہوگے نہ پینے پر بندہ واقعی اپنے آپ میں نہیں رہتا، چائے تھکن فوری طور پر دور کرتی ہے اور جسم کو نئی توانائی بہم پہنچاتی ہے ـ

ہمارے پشتون علاقوں میں وہ لوگ تہذیب یافتہ کہلاتے ہیں جو اپنے مہمانوں کو چائے پلانے میں کنجوسی سے کام نہیں لیتے ایسے لوگوں کے گھروں کی حیثیت یادگاری رہتی ہے اُن حجروں کے تذکرے ہمیشہ اچھے الفاظ میں کئے جاتے ہیں جہاں شناسا اور ناآشنا کے امتیاز کے بغیر لوگوں کو چائے پر زبردستی ٹہرایا جاتا ہے، گاؤں میں چائے بااختیار افسروں کو بطور رشوت بھی پلائی جاتی ہے، اسلئے گاؤں میں کسی کی دیانت داری پر شک و شبے کا اظہار کرنا ہو تو کہا جاتا ہے فلاں شخص چائے پانی کا آدمی ہے فلاں کے ہاں چائے پیتا رہتا ہے اُن سے خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی ـ

ہمارے گاؤں میں ایک اعلی حضرت تھے ان کی والی سوات سے اچھی دوستی تھی والی صاحب انکے کام آنا چاہتے تھے اسلئے اُن حضرت سے گاؤں تک سڑک بنوانے کی آفر کی اعلی حضرت نے انکار کردیا انکار کی وجہ یہ ظاہر کی جب گاؤں تک سڑک جائے گی تو ہوٹل بھی بن جائے گا اور جب ہوٹل بن جائے گا تو میرے حجرے میں مہمان چائے پینے کیوں آئینگے جب ہوٹل میں اچھی چائے میسر ہوجائے، اُن کے بیٹے سے کل ہماری ملاقات تھی چائے کی میز پر طویل باتیں ہوئیں انہوں نے کہا چائے پینے کے بعد ہی طویل باتیں کی جاسکتی ہیں وہ باتیں طول کبھی نہیں پکڑتیں جو دلچسپ نہیں ہوتیں اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ چائے ہماری گفتگو کو دلچسپ بناتی ہے اور اسے معنی دیتی ہے ـ

مزید پڑھیں:   80 دن کا مہینہ

میں جب ایسی دنیا کا تصور کرتا ہوں جس میں چائے نہ ہو تو میرے ذہن میں یہ سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دنیا چائے کے بغیر کیسے ہوگی پھر میرا ذہن ماؤف ہوجاتا ہے اور ایسی دنیا کا تصور بھی اس سے محو ہوجاتا ہے، میرا خیال ہے کہ سب سے زیادہ دانش کی باتیں اور دو افراد کے مابین باہم محبت اور وابستگی کے لمحات چائے کی میز پر وجود میں آتے ہیں، چائے سے میرا دل کبھی نہیں بھرتا میں چائے پیتا ہوں جب دل بھرجاتا ہے پھر پینے لگتا ہوں ـ

عشرے ہوگئے میں نے ماں کے ہاتھ کی بنی چائے کے بعد اس طرح چائے نہیں پی اس لئے اگر کسی بازار میں تین چائے خانے ہوں تو میں تینوں میں چائے پیتا ہوں اگر کسی گاؤں میں چار دوست ہوں تو چاروں کے ہاں چائے پیتا ہوں اس خیال سے کہ وہی تاثیر اور ذائقہ کہیں پھر سے محسوس ہوں جو ماں کے ہاتھ کی بنی چائے میں تھی، رات کے وقت سٹڈی ٹیبل کے سامنے بیٹھ جانے سے پہلے وہاں تھرماس رکھتا ہوں کیوں کہ سٹڈی کے لئے کتاب سے زیادہ چائے ضروری ہوتی ہے اسی طرح رات کو جب تک مجھے نیند نہیں آجاتی اس خیال میں چائے پیتا رہتا ہوں کہ جب تک زندگی ہے چائے نوشی کرنی چاہئے ـ

اپنا تبصرہ بھیجیں