سادہ لوگ

سادے لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بڑا سادہ بندہ ہے” یہ جملہ اکثر تب سنائی دیتا ہے جب کوئی بندہ بے دھڑک، بغیر کسی لگی لپٹی، عقل کے میزان پر پرکھے بغیر اور نتیجہ نکلنے پر اس کے اثرات سے بے پروا ہوکر کوئی بات کرتا ہے تو سامعین میں سے کوئی ایک یہ جملہ ضرور بولتا ہے۔
یہ سادہ لوگ بڑے صاف دل کے ہوتے ہیں بیشک ان کے پوشاک میلے کیوں نہ ہوں، اخلاص ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے یہ سادگی مصنوعی نہیں ہوتی بلکہ بے ساختہ اور قدرت کی ودیعت کردہ ہوتی ہے کیونکہ جب کوئی مصنوعی سادگی کا اظہار کرتا ہے اور تب اس کے بارے کوئی شخص یہی مذکورہ بالا جملہ کہتا ہے تو جاننے والوں میں سے کوئی جواب بھی دیتا ہے کہ س سے نہیں ص سے صادہ ہے۔
سادے لوگوں کی باتیں بھی زود فہم ہوتی ہے الفاظ کو ثقالت سے پاک رکھتے ہیں مروجہ زبان و بیان سے کام چلاتے ہیں اور کوئی بھی بات کرنے یا مدعا بیان کرنے سے پہلے لمبی لمبی تمہید نہیں باندھتے اسلئے دو چہروں والے دوغلے اور “نقاب پوش” لوگوں کو ان کی محفل میں موجودگی سے کوفت ہوتی ہے اسلئے اکثر ایسے لوگ تنہائی میں اپنے آپ کی پوری ایک محفل جماتے ہیں۔
آج کل ہمارے معاشرے سے یہ صنف ناپید ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ایسے لوگوں کی موجودگی سے ہماری ملمع کاری پر ضرب پڑتی ہے اور اپنی اکثریت کے بنا ہم ان اقلیتی صنف کے وجود کے برداشت کے قائل نہیں ہوتے۔
ان سادہ لوگوں کی موجودگی ہمارے معاشرے میں رحمت ہے ان کی قدر کیجئے نہیں تو ہمیں ختم کرنے کیلئے اپنی منافقت ہی کافی ہوگی۔
تحریر: عارف اللہ خان مروت

اپنا تبصرہ بھیجیں